Pakistan's Urdu Forum For IT Education
 

Go Back   www.itilm.com > Urdu Adab > Urdu Novels > Urdu Afsanay
Forgot Password? Join Us!


Thread Title


جیون ساتھی کا وفادار

Urdu Afsanay


Reply
Thread Starter shaan Replies 1 Views 208  Show Printable Version | Email this Page | Subscription
share |
share topic
 
Thread Tools
  #1  
Old 01-16-2020, 10:23 PM
shaan's Avatar
shaan shaan is offline
Senior Member
 
Join Date: Oct 2010
Posts: 412 -- Threads: 137
Rep Power: 10
shaan is on a distinguished road
Lightbulb جیون ساتھی کا وفادار

Sponsored Links

Name:  Zalim-Shohar-K-Liye-Dua.jpg
Views: 6
Size:  78.4 KB

میرب میری بیٹی بس کل سے تم سکول نہیں جاو گی
میرب نے کہا لیکن ماما جان کیوں
میرب کی ماں نے کہا میرب ڈاکٹر نے منع کیا ہے کے اب اگر زیادہ نظر لگا کر پڑھے گی تو نظر پہ زیادہ اثر پڑے گا اور دوسری آنکھ سے بھی نظر آنا بند ہو جائے گا
میرب 10 کلاس میں پڑھتی تھی
لیکن جب وہ 9th میں تھی کے اچانک آنکھوں میں جلن رہنے لگی اور دیکھتے دیکھتے اس کی ایک آنکھ کی روشنی بلکل ختم ہو گئی تھی بہت محنتی تھی ہر سال کلاس میں فرسٹ آتی تھی
لیکن خدا نے نصیب میں کچھ اور لکھا تھا
وہ میٹرک کے بعد بھی پڑھنا چاہتی تھی لیکن ماں باپ پریشان رہنے لگے کے ہزاروں ڈاکٹرز کو دکھا دیا لیکن ڈاکٹرز کوئی علاج نہیں کر پا رہے
عینک لگ گئی تھی میرب کو دوسری آنکھ سے بھی بس 50% نظر آتا تھا
وہ بہت خوبصورت تھی کچھ سال گزرے کے میرب کی منگنی اس کے خالہ کے بیٹے سے کی ہوئی تھی بچپن میں لیکن جب شادی کی بات کی تو یہ کہہ کر خالہ نے جان چھڑوا لی کے میرا بیٹا نہیں مانتا
میرب نے تو بچپن سے اب تک اپنے کزن میں ہی زندگی بھر کا سفر دیکھا تھا
لیکن نصیب کے کھیل تھے میرب روتی تھی یا خدا کیوں میرے ساتھ ایسا کیا میرا گناہ کیا تھا مجھ سے آنکھیں لینی تھیں تو مجھے بچپن میں ہی دنیا کی یہ رنگینیاں نہ دکھاتے
مجھے خواب نہ دکھاتے مجھے اپنوں کی آنکھوں میں وہ پیار نہ دکھاتے جو اب بدل گئے ہیں
جو بھی رشتہ دیکھنے آتا وہ یہ کہہ کر انکار کر دیتا بیٹی اس کی نظر کا مسلئہ ہے کیا پتا کل کو جو تھوڑا سا دکھائی دیتا یے وہ بھی بند ہو جائے
ماں بہت روتی تھی بیٹی کے نصیب سے ڈرنے لگی تھی وہ اس زمانے کو دیکھ رہی تھی جب وہ دنیا مں نہ رہیں گے تو ہماری میرب کا خیال کون رکھے گا سب رشتے بدل جاتے ہیں کون بے سہارہ کو آ سینے لگاتا ہے کون کسی کو اپنا کہتا ہے کون دیکھے کا میرب کی بے بسی کو کون سمجھے گا میرب کے اشاروں کو کون میری بیٹی کو اپنی کہے گا
ماں بہت روتی تھی بیٹیوں کے نصیب کی بیت فکر ہوتی ہے نا ماں باپ کو
6 سال گزر گئے چھوٹی بہنوں کی شادی ہو گئی لیکن میرب وہی گھر بیٹی خدا سے شکوے بھی چھوڑ دیئے رونا بھی چھوڑ دیا اس کو اب صرف %20 نظر آتا تھا مطلب کے بس دھندلے ہوئے چہرے نظر آتے تھے
میرب تھی تو بہت خوبصورت لیکن بس نصیب بے وفا تھے
وہ یوں اندھیرے میں اپنی زندگی گزارنے لگی بے بس ہو گئی ڈاکٹرز نے کہا تھا علاج تو ممکن ہے اگر کوئی اپنی آنکھیں اس کو دے دے
اس زمانے میں کوئی کسی مرنے والے کو پانی کا گھونٹ نہیں پلاتا تو آنکھیں کون دے گا میرب 30 سال کی ہو چکی تھی ماں باپ بوڑھے ہو گئے تھے
میرب کی فکر نے شاید ان کو زیادہ بوڑھا کر دیا تھا
میرب کو بھی بلکل نظر آنا بند ہو چکا تھا
اس کے سب خواب کسی دوور اندھیرے میں دفن ہوگئے اس کے سارے جذبات فناہو گئے
میرب کی خوشیاں بس اتنی سی تھیں کے کوئی آ کر حال پوچھ لیتا تو میرب خوش ہو جاتی وہ جیسے زندگی کے دن گزار رہی تھی اسے دنیا میں کسی سے اب کوئی واسطہ نہیں تھا کسی نہ کسی سے دل کی بات کہہ سکتی تھی نہ کوئی سننے والا تھا
ساتھ والے گھر میں شادی تھی میرب بس ڈھول کی تاپ کو سن کر ان کے گھر ہونے والی خوشیاں محسوس کر رہی تھی اتنے میں دروازے پہ دستک ہوئی ماں نے کہا جاو دیکھو بیٹا تمہارا باپ آیا ہو گا کتنی بار کہا ہے ٹائم پہ گھر آ جایا کر میرب آہستہ آہستہ چلتے ہوئے دروازے کے پاس گئی دروازہ کھولا کے ایک لڑکے نے سلام کہا
میرب نے گھبرا کر وا علیکم السلام کہا
میرب نے پوچھا آپ کون
وہ لڑکا بولا وہ جی میں ساتھ والے گھر مہمان آیا ہوں آپ کے گھر سے کچھ سامان لانے کے لیئے بیجھا ہے مجھ جو انہوں نے شاید آپ کئ امی کو دیا تھا رکھنے کے لئے
لڑکا تو میرب کئ طرف دیکھتا رہا دل میں خیال آیا کتنی خوبصورت لڑکی ہے اللہ نے کتنا حسن دیا ہے اس کو
میرب خاموش ہو گئ اور ماما کو آواز دی ماما جان باہر کوئی آیا ہے ماں نے دیکھا تو پہچان لیا ارے یہ تو نادیہ کا بیٹا ہے آ جاو بیٹا
میں لے کر آتی ہو سامان
لیکن علی تو میرب کو دیکھتے جا رہا تھا وہ شاید اس کی خوبصورتی میں کہیں ڈوب چکا تھا لیکن انجان تھا اس حقیقت سے جو اس پہ قیامت گرانے والی تھی
اس نے میرب سے کہا پلیز آپ مجھے پانی لا دین گی میرب نے آواز دی ماں یہ پانی مانگ رہے ہیں
پہلے تو علی نے سوچا بڑی کوئی بدتمیز لڑکی ماں کو آواز دے رہی خود پانی لینے نہیں گئی
جب ماں پانی لے کر یہ تو بتایا سوری بیٹا یہ میرب ہے میری بیٹی اس کو نظر نہیں آتا ۔۔۔
علی نے کہا نظر نہیں آتا مطلب
میرب کی ماں نے کہا بیٹا اندھی ہے یہ دیکھ نہیں سکتی
علی کو یقین نہیں آرہا تھا اتنی خوبصورت کے جیسے کوئی سمندر کی گہرائی میں چمکتے ہوئے موتی ہوں
لیکن شاید کے علی ہار بیٹھا تھا خود کو میرب پہ
گھر گیا شادی تقریب ختم ہوئی تو علی میرب کو دیکھنے کے لیئے کسی نہ کسی بہانے آ جایا کرتا تھا
علی نے اپنی ماں سے بات کی کے مجھے میرب سے شادی کرنی ہے
علی کی ماں نے غصے میں کہا بکواس نہ کرو شادی کرنی ہے جا دفعہ ہو جا یہاں سے
علی بضد رہا
دن گزرتے گئے علی کی تڑپ بڑھتی گئی
علی بس کیسے بھی اب میرب سے شادی کرنا چاہتا تھا
علی نے کہا میں زہر پی لوں گا اگر میری شادی نہ کروائی تو
ماں نے کہا کیسا بے شرم لڑکا یے
اس کے باپ سے بات کی تو باپ نے سمجھایا بیٹا وہ تمہارا خیال نہیں رکھ پائے گی وہ تمہارا سہارا نہیں بنے گی بلکہ تمہاری زندگی خراب کر دے گی
تمہارا جنوں چند دنوں کا ہے بس حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا کیوں کسی کی بیٹی کو برباد کرو گے ساتھ خود کو بھی
لیکن علی کہاں کسی کی کوئی بات سننے والا تھا
علی اپنا کوئی چھوٹا سا بزنس کرتا تھا
گھر والوں نے اس کا پاگل پن دیکھا اور مان گئے شادی کے لیئے
میرب کی ماں سے بات کی تو میرب کی ماں نے کہا لیکن آپ کا بیٹا سب جانتے ہوئے بھی
علی کی ماں ے کہا اللہ نے اگر ان کا نصیب ایسا لکھا ہے تو ہم۔کیا کر سکتے ہیں
خیر شادی ہو گئی میرب بہت ڈری ہوئی تھی اس کے دل میں ہزاروں سوال جنم لے رہے تھے وہ سوچ رہی تھی یا خدا پہلے جینے کی خواہش تھی تم نے سب کچھ ختم کر دیا اب مرنے کی خواہش تھی تو زندگی کی طرف لے آیئے ہو
کیسے امتحاں تمہارے یا خدا
علی کھانستے ہوئے کمرے میں آیا میرب خاموش بیٹھی رہی علی پاس ایا
ہاتھ پکڑا میرب ڈر سی گئی علی نے کہا میرب ڈر لگ رہا ہے
میرب خاموش رہی
علی نے میرب کا ہاتھ اپنی آنکھوں کو لگایا اور کہنے لگا آج سے یہ آنکھیں تمہاری ہیں
اٹھو اب چلو میرے ساتھ
میرب نے دھیمی سی آواز میں پوچھا کہاں جانا ہے
علی نے کہا چلو وضو کریں پہلے میرے ساتھ شکرانےکے نوافل ادا کریں
علی نے اپنے ہاتھ اس اس کے ہاتھ پاوں دھوئے وضو کروایا اور شکرانے کے نوافل ادا کیئے

میرب کو یقین نہیں آ رہا تھا کے خدا کر کیا رہا ہے
علی نے نماز کے بعد میرب کی آنکھوں کو چوما اور کہا آج سے تم میری آنکھوں سے دیکھا کرو گی کبھی اس کے سر کے بال سنوارتا تو کبھی اس کے ہاتھوں کو چومتا
باتیں کرتے ہوئے سو گیا ولیمہ رسم مکمل ہوئی
سب رشتہ دار باتیں کر رہے تھے علی پاگل ہے زیادہ دن یہ شادی نہیں رہے گی دیکھنا 2 مہنے بعد ہی طلاق ہو جائے گی
کچھ لڑکیاں علی کو یہ کہتے بھی سنی گئی کے اگر علی انتظار کرتا میں شادی کروا لیتی علی سے
لیکن علی کو بس میرب کی محبت کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا تھا
علی بے اٹھتا ناشتہ بناتا اپنے لیئے میرب کے لیئے
پھر پھول سی خوشبو سے جگاتامیرب کو نماز فجر ادا کرتے پھر ناشتہ ایک ساتھ کرتے
علی میرب کو آہستہ آہستہ گھر کی ہر چیز کہاں رکھی ہے سب بتاتا
میرب بھی سمجھنے لگ گئی تھی
علی کا ایک گھنٹہ بھی میرب سے بات کئے بنا نہیں گزرتا تھا

وہ کال کرتا حال پوچھتا پیار بھری باتیں کرتا
1 سال ہو گیا تھا شادی کو میرب بہت خوش رہنے لگی تھی
اب میرب گھر کے کام بھی کرتی تھی مدد کرواتی تھی علی کی میرب خدا کا شکر ادا کرتی تھی کیا خدا تم بہتر جانتے ہو ہم کو توں دے تو ناشکرےہو جاتے ہیں چھین لے تو شکوے کرتے ہیں لیکن توں بہتر جاننے والا ہے
کبھی چپکے سے آ کر سینے لگا لینا تو کبھی خاموشی میں ڈرا دینا دونوں میں بہت تھا
میرب علی کے سینے پہ سر رکھ کر سوتی تھی ایک عادت سی ہوگئی تھی وہ علی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کہا کرتی تھی
علی سنا ہے قیامت کے دن اللہ مجھے میری آنکھیں واپس دے گا
لیکن اس دن کے دعا کرتی ہوں کے خدا و رسول کے بعد سب سے پہلے میں آپ کو دیکھوں
میری آنکھیں سب سے پہلے آپ کو دیکھیں
علی مسکرا دیتا تھا پاگل سی ہو تم پتہ نہیں کیا کیا سوچتی رہتی ہو
ایک دن علی گھر پہ نہیں تھا میرب چھت پہ تھی بارش ہو رہی تھی بہت زور سے
میرب شاید چھت سے کپڑے اتارنے گئی تھی نصیب نے عجیب کھیل کھیلنا تھا درد شاید ابھی باقی تھے
میرب چھت پہ تھی کے پاوں پھسلا اور چھت سے گر گئے بے ہوش ہو گئے محلے والوں نے ہسپتال پہنچایا علی کو کال کی علی پاگل سا ہو گیا سب کر وہ ہسپتال پہنچا
ڈاکٹرز نے کہا دماغ میں چوٹ لگی ہے کچھ کہہ نہیں سکتے دعا کریں بس
آپریشن کرنا ہو گا ایمرجنسی
علی کی آنکھوں میں آنسو تھے ڈاکٹر کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا ڈاکٹر صاحب پلیز میری میرب کو بچا لیں
ڈاکٹر نے حوصلہ دیا اور چلا گیا
علی بے بس بیٹھا میرب کی تصویر نکالی چوم کر کہنے لگا میرب مجھے دغا نہ دینا مجھ سے بے وفائی نہ کرنا تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی دیکھو میرب کل ہم اپنا نیا گھر لے رہے ہیں میرب تم نے کہا تھا کبھی میرا ساتھ نہین چھوڑو گی آسمان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا یا اللہ مجھے میری میرب واپس دے دو میری میرب مجھ سے نہ لینا اس کی محبت کی تڑپ پہ شاید خدا کو بھی ترس آ گیا تھا
4 گھنٹے کے آپریشن کے بعد
ڈاکٹر باہر آئے بہت خوش تھے کہنے لگے مبارک ہو مسٹر شاید آپ کی بیوی پہلے دیکھ نہیں سکتی تھی آپریشن کے دوران ہم۔نے دیکھا کے لینز ٹھیک نہیں تھی چھوٹے سے آپریشن سے ٹھیک کر دیئے ہیں شاید کے اب دیکھنے لگے
ہوش آیا تو دو دن بعد آنکھوں سے پٹی اتاری تو اللہ نے اپنا معجزہ دکھایا اور میرب کو نظر آنے لگا علی نے میرب کو سینے سے لگا لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا
ہمسفر وہی ہوتا ہے جو ہر حالات میں اپنے جیون ساتھی کا وفادار رہے ورنہ ہمسفر تو جانور بھی ایک دوسرے کے ہوتے ہیں



Reply With Quote
Sponsored Links
  #2  
Old 01-27-2020, 06:39 PM
IQBAL HASSAN's Avatar
IQBAL HASSAN IQBAL HASSAN is offline
Moderator
 
Join Date: Apr 2013
Location: G-9/2,ISLAMABAD.
Age: 34
Posts: 6,139 -- Threads: 969
Rep Power: 13
IQBAL HASSAN is on a distinguished road
Arrow Re: جیون ساتھی کا وفادار


بہت ہی خوبصورت اور محبت کا لازاوال داستان شئیر کی ہے
علی کی بے لوث محبت جیت گئئ
اس طرح کی مزید عمدہ شرینگ کا انتظار رہے گا
ہمارے ساتھ آ ئی ٹی علم میں شرینگ کرنے کا بےحد شکریہ
امید کرتا ہو کے اپ اسی طرح اچھی اچھی شرینگ کرتے رہو گے
Reply With Quote
Reply

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
نفس کے جنگل اور اپنی خواھشات کی وادیوں Rania Deeni Taleem 0 12-29-2014 11:09 AM
اٹھانی ھے جو نفرت کی اٹھا دیوار بسم اللہ Zindagi Urdu Poetry 5 05-19-2014 11:30 AM
یارانِ قفس مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے anwar_hussain Urdu Poetry 2 08-12-2012 03:50 PM
اسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقف حال & lovebank Urdu Poetry 2 08-12-2012 03:50 PM
ادا کیا تھا جو میں نے اس کا ادھار آدھا smartyounus Jokes 4 05-27-2012 12:34 AM



Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 

(View-All Members who have read this thread : 3
inetryconydot, IQBAL HASSAN, shaan
Thread Tools


Login

Flag Counter


Powered by vBulletin® Version 3.8.11
Copyright ©2000 - 2020, vBulletin Solutions, Inc.
Copyright © 2010- 2020, Itilm.com, All Rights Reserved